محمد علی حضوری قصوری (Muhammad Ali Hazuri Kasuri) برصغیر کے اُن عظیم نعت خواں حضرات میں شمار ہوتے ہیں جن کی آواز، انداز اور نعتیہ کلام نے لاکھوں دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کی۔ آج بھی اُن کی پڑھی ہوئی نعتیں سننے والوں کے دلوں کو گرما دیتی ہیں۔
محمد علی حضوری کو قصوری اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کی زندگی کا بڑا حصہ قصور (Kasur) شہر سے وابستہ رہا۔ اگرچہ اُن کی پیدائش لاہور کے قریب ہوئی، مگر انہوں نے قصور میں سکونت اختیار کی، تدریسی خدمات انجام دیں اور یہی شہر اُن کی نعت خوانی اور روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ اسی نسبت سے وہ حضوری قصوری کے نام سے مشہور ہوئے۔
![]() |
| Muhammad Ali Hazoori Kasuri |
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
حضرت الحاج محمد علی ظہوریؒ کی پیدائش 12 اگست 1932ء کو موضع رائیاں، رائیونڈ روڈ لاہور کے قریب ہوئی۔ آپ ایک نہایت دینی اور روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد حاجی نور محمد نقشبندیؒ عظیم صوفی بزرگ حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کے مرید تھے، جبکہ والدہ نہایت پرہیزگار اور سادہ مزاج خاتون تھیں۔
آپ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ صرف 10 سال کی عمر میں ایک بڑے عرس کے موقع پر پہلی پنجابی نعت پڑھنے کا شرف حاصل کیا، جو آپ کی نعت خوانی کے عظیم سفر کا آغاز تھا۔
تعلیم اور عملی زندگی
1947ء کی ہجرت کے باعث تعلیم میں رکاوٹ ضرور آئی، مگر آپ نے ہمت نہ ہاری۔ میٹرک اور تدریسی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں قصور میں ہیڈ ماسٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
عظیم نعت خواں کے طور پر شہرت
محمد علی حضوری قصوری صرف نعت پڑھنے والے نہیں تھے بلکہ نعت کے اصل ذوق اور روح کو سمجھنے والے عظیم فنکار تھے۔ آواز کی مٹھاس، تلفظ کی صفائی اور جذبے کی گہرائی نے انہیں ممتاز نعت خواں بنا دیا۔
پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی اُن کی نعت خوانی کو بے حد پسند کیا جاتا تھا۔ آج بھی اُن کی نعتیں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سنی جا سکتی ہیں۔
بیرونِ ملک سفر اور اثرات
محمد علی حضوری قصوری نے نعت خوانی کے لیے کئی ممالک کے دورے کیے، جن میں شامل ہیں:
- متحدہ عرب امارات
- عراق
- کویت
- انگلینڈ
- بھارت
ان دوروں کے ذریعے انہوں نے عالمی سطح پر عشقِ رسول ﷺ کا پیغام عام کیا اور قصور کا نام روشن کیا۔
دینی خدمات اور شاگرد سازی
آپ نے نعت خوانی کو فروغ دینے کے لیے کئی ادارے قائم کیے، جن میں نمایاں ہیں:
- مجلسِ حسن
- ایوانِ حسن
- مرکزِ توصیف
ان اداروں کے ذریعے آپ نے بے شمار شاگرد تیار کیے جو آج معروف نعت خواں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔
روحانی زندگی اور وصال
آپ نے اپنی زندگی میں چار حج اور بارہ عمرے ادا کیے۔ عبادت، عاجزی اور عشقِ رسول ﷺ آپ کی شخصیت کا خاص وصف تھا۔
11 اگست 1999ء کو یہ عظیم نعت خواں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ آپ کی وصیت کے مطابق تدفین مرکزِ توصیف میں کی گئی۔
مزار اور آج کی نسل پر اثر
آپ کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادگان نے آپ کے مزار پر خوبصورت مقبرہ تعمیر کروایا۔ آج بھی عقیدت مند یہاں حاضری دیتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں آپ کی نعتیں، ویڈیوز اور تعلیمات محفوظ کی جا رہی ہیں تاکہ نئی نسل بھی محمد علی حضوری قصوری کے فن اور عشقِ رسول ﷺ سے فیض یاب ہو سکے۔
Conclusion
محمد علی حضوری قصوری نہ صرف قصور بلکہ پورے برصغیر کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ، عظیم نعت خواں اور بہترین استاد کے طور پر ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
از قلم عبداللہ امین کمبوہ (پنجاب پولیس)
